پاکستانیوں کی صفات

مرتبہ پوسٹ دیکھی گئی


پاکستانیوں کی صفات


آیئے آج کی نشست میں ہم اپنی قوم کی بعض صفات کا جائزہ لیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ مالی اعتبار سے پاکستان کا شمار کم آمدنی والے ممالک میں ہوتا ہے۔ چودہ کروڑ سے زائد آبادی پر مشتمل پاکستانی قوم کو کئی بنیادی مسائل درپیش ہیں۔ تعلیم کی کمی ہے، صحت کی سہولیات نہایت درجہ کم ہیں۔ سرکاری اور نجی اداروں میں ڈسپلن اور عوام کی خدمت کے جذبوں کا فقدان ہے۔ مگر ان سب دشواریوں اور رکاوٹوں کے باوجود پاکستانی قوم کے بے شمار باہمت افراد نے دنیا میں نہایت اعلیٰ مقام حاصل کیا۔
ہمارے ملک میں زندگی کے کسی بھی شعبہ کی تعلیم و تربیت کے لئے وافر وسائل میسرّ نہیں ہیں، اس کے باوجود کون سا میدان ایسا ہے جس میں ہمارے لوگوں نے نہایت اعلیٰ کامیابیاں حاصل نہیں کیں۔ کھیلوں کے شعبہ کو لیجئے۔ گلی محلے میں ٹوٹے بلّوں اور کھردری گیند سے کھیل کا آغاز کرنے والے جب پاکستان کی نمائندگی کرنے آئے تو دنیا سے اپنی عظمت تسلیم کروائی۔ ہم نے ہاکی کھیلی تو ایشین چیمپئن، عالمی چیمپئن اور اولمپکچیمپئن بنے۔ کرکٹ کھیلی تو ورلڈ چیمپئن بنے۔ اسکوائش کھیلی تو عالمی چیمپئن بنتے رہنے کی تاریخ رقم کرڈالی۔ اسنوکر کھیلنے گئے تو بھی عالمی چیمپئن کا اعزاز لے کر وطن واپس آئے۔ وطن کو دفاع کے لئے ضرورت پڑی تو ایک غریب قوم نے ایٹمی قوت بن کر دشمن کے عزائم کو لگام دے ڈالی۔ فنونِ لطیفہ کے شعبہ میں آئے تو مہدی حسن، نصرت فتح علی خان جیسے ہیرے دنیا کو دیئے۔ خدمتِ خلق کے شعبہ میں آئے تو عبدالستار ایدھی اور عمران خان جیسے لوگوں کے کارناموں پر دنیا بھر سے ستائش وصول کی۔ تعلیم کے شعبہ میں آئے تو حکیم محمد سعید، ملک معراج خالد، ڈاکٹر عطا الرحمن جیسے جواہر سے دنیا بھر کوفیضیاب کیا۔
آیئے ایک چھوٹا سا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔۔۔۔۔
اسلامی اُمّہ میں عرب ممالک خاص طور پر سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات وغیرہ تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ ان تمام ممالک میں فٹبال سے جنون کی حد تک لگاؤ پایا جاتا ہے۔ ان ممالک کی اپنی فٹبال ٹیمیں بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان ٹیموں کی تربیت کے لئے بے تحاشہ وسائل بھی فراہم کئے گئے ہوں گے۔ لیکن ان قوموں نے زبردست وسائل ہونے کے باوجود آج تک عالمی سطح پر فٹبال کا کوئی نامور کھلاڑی پیدا نہیں کیا۔ جب کہ ہماری قوم نے نہایت محدود وسائل سے تربیت فراہم کر کے دنیا کو ظہیر عباس، میانداد، عمران خان، وسیم اکرم، اصلاح الدین، سمیع اﷲ، محمد یوسف، جہانگیرخان، جان شیر خان جیسے عظیم کھلاڑی دیئے۔
ہم پاکستانیوں کی اپنے وطن سے محبت کا حال بھی عجیب ہے۔ ہماری حب الوطنی کے شاندار مظاہرے دیکھنے کے لئے ایک موقع کھیلوں کے مقابلے بھی ہیں۔ خاص طور پر جب ہماری ٹیم کا مقابلہ بھارت کی ٹیم کے ساتھ ہورہا ہو۔ اگر پاکستان اور بھارت کا کرکٹ میچ ہورہا ہو تو ہمارا جذبۂ حبِالوطنی نہایت اعلیٰ درجوں پر ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر ہر پاکستانی اپنی ٹیم کو جیتتا ہوا دیکھنا چاہتا ہے۔ پاکستانی ٹیم بھارت سے جیت جائے تو ہماری خوشی دیدنی ہوتی ہے۔ ہم فتح کا جشن مناتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارک باد دیتے ہیں۔ خوشی میں ریلیاں نکالتے ہیں۔ مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔ مگر کھیل آخر کھیل ہے اگر کبھی پاکستانی ٹیم بھارتی ٹیم سے ہار جائے تو ہمارے ملک کے ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں اُداسی سی چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ اس معاملہ میں پوری قوم ایک ہی طرح سوچتی ہے۔ طالبعلم، کسان، تاجر، صنعتکار، گھریلو خواتین، مرد و عورت غرض ہرپاکستانی بھارتی ٹیم سے مقابلہ کے وقت جذبۂ حب الوطنی سے پوری طرح سرشار ہوتا ہے۔
لیکن بڑی عجیب بات یہ ہے کہ زندگی کے دوسرے کئی شعبوں میں اس شدت سے جذبۂ حب الوطنی کی موجودگی محسوس نہیں ہوتی، جس شدت سے کھیلوں کے مقابلہ کے وقت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک پاکستانی تاجر جو اپنی کرکٹ ٹیم کی کامیابی کے لئے بے حد جذباتی نظر آتا ہے، اپنی عملی زندگی میں اس شدت کی حب الوطنی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔ کھیل کے میدان میں تو اس کا رول محض ایک تماشائی کا ہے، جب کہ عملی زندگی میں وہ خود ایک ایسا کھلاڑی ہے، جس کی پرفارمنس پر قوم کی کامیابی کا انحصار ہے۔ کچھ تاجر جب بیرونِ ملک ایکسپورٹ کرتے ہیں تو کبھی تو مال دکھائے گئے سیمپل سے کم معیار کا ہوتا ہے یا کبھی مقدار میں کم ہوتاہے۔ سوال یہ ہے کہ اپنے چھوٹے سے منافع کے لئے دوسری قوم سے بدعہدی کرتے وقت اس تاجر کا جذبہ حب الوطنی کہاں جا کر سوجاتا ہے؟ ہم اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کے بارے میں تو یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں گراؤنڈ میں اور گراؤنڈ سے باہر ہمیشہ اپنی قومی ذمہ داریوں کا احساس رہنا چاہیے۔ لیکن ہم میں سے کئی لوگ خود اپنی انفرادی زندگی میں قومی ذمہ داریوں اور جوابدہی سے خود کو بالاتر سمجھتے ہیں۔ وطن کی تعمیر و ترقی اور ایک بہتر و منظم معاشرہ کی تشکیل ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اس حوالہ سے زندگی ایک جہدِ مسلسل کا نام ہے۔ یہ جدوجہد نا صرف اپنی روٹی روزی کمانے کے لئے ہے۔ بلکہ بہتر روّیوں اور پاکستانی معاشرہ میں اعلیٰ اقدار کی تشکیل اور فروغ کے لئے بھی ہونی چاہیے۔
معاشرتی زندگی میں بھی پاکستانی قوم کے متنوع مزاج اور صفات کا مظاہرہ جگہ جگہ دیکھا جاسکتا ہے۔ ایک طرف ہماری قوم کے چند افراد نے دوسروں کا خیال رکھنے اور خدمتِ خلق کے حوالے سے بے مثال کارنامے سرانجام دیئے۔ عبد الستار ایدھی نے بے سہارا لوگوں کے لئے پاکستان میں خدمتِ خلق کا ایسا نیٹ ورک قائم کردیا جس کی دنیا بھر میں مثال نہیں ملتی۔ عمران خان غریب لوگوں کو کینسر کے علاج کے لئے، جنرل جہانداد خان نے آنکھوں کے امراض کے لئے، میاں پرویز نے ہسپتال میں داخل مریضوں کی میزبانی کے لئے اور کئی دوسرے درد مند پاکستانیوں نے دیگر شعبوں میں وطن کے لئے شاندار خدمات سر انجام دیں تو دوسری طرف یہ بھی ہمارا مشاہدہ ہے کہ کوئی شخص سڑک پر زخمی پڑا ہوا ہوتا ہے اور وہاں سے گاڑیوں میں گزرنے والے اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہم میں سے بعض لوگ بزرگوں کے مزارات پر تو بڑی بڑی رقموں کے لنگر تقسیم کروادیتے ہیں لیکن اپنے قریبی عزیزوں اور پڑوسیوں کی مدد کو نہیں آتے۔ ایک غور طلب امر یہ بھی ہے کہ پاکستانیوں کا شمار دنیا میں سب سے زیادہ خیرات و عطیات کرنے والی قوموں میں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود ہمارے ملک میں غربت کے سفاکانہ مظاہرے عام ہیں۔ یہ بڑا عجیب تضاد ہے۔ جس کا مظاہرہ ہمارے معاشرہ میں آئے دن ہوتا رہتا ہے۔
مذہبی حوالے سے بھی اپنے معاشرہ کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ اﷲتعالیٰ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم پر اﷲ کی آخری کتاب قرآن کا نزول ہوا۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن پر مکمل طور پر عمل کر کے رہتی دنیا تک کے لئے ایک نہایت شاندار قابلِ تقلید نمونہ فراہم کردیا۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات نوعِ انسانی کو فلاح اور کامرانی عطا کرتی ہیں۔ یہ تعلیمات اﷲ کی نشانیوں میں تفکر اور ریسرچ کی ترغیب دیتی ہیں۔ علم کے حصول کو لازم قرار دیتی ہیں۔ حکمرانوں کو عوام کے حقوق کا پابند بناتی ہیں تو عوام کو اولو الامر کا پابند کر کے حکومت اور عوام کے درمیان اعتماد اور تعاون کا راستہ فراہم کرتی ہیں۔ ان تعلیمات کی بدولت معاشرہ کو نظم و ضبط ملتا ہے۔ گھر، محلہ، شہر، مملکت ہر جگہ لوگوں کے حقوق محفوظ ہوتے ہیں۔ مملکت کی اکثریتی آبادی اور اقلیتی آبادی کو تحفظ اور یکساں بنیادی حقوق فراہم ہوتے ہیں۔ تعاون اور خیر خواہی پر مشتمل جذبات پروان چڑھتے ہیں۔ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات کے ذریعہ انسان حقوق اﷲ اور حقوق العباد سے آگاہی حاصل کرتا ہے، اسے یہ بھی علم ہوتا ہے کہ حقوق العباد کی ادائیگی کس قدر ضروری ہے۔ رسولِاکرم صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات ﷲ تعالیٰ کی عبادت کے طریقہ سکھاتی ہیں، ساتھ ہی انسانوں کے مابین معاملات کی درست انجام دہی کا حکم دیتی ہیں۔ لیکن ہمارا حال کیا ہے؟۔۔۔۔۔ ہم میں سے بہت سے لوگوں نے اسلام کو پوری زندگی پر ایک مکمل ضابطۂ حیات کے طور پر نافذ کرنے کے بجائے مخصوص ظاہری وضع قطع سے منسلک کردیا ہے۔ بعض لوگوں کا تو سارا زور محض ظاہری وضع قطع پر ہے۔ ان کی جانب سے قرآن پاک میں درج سینکڑوں احکامات کی تعمیل اور بطورِ خاص معاملات کی درستگی کے لئے کوئی تبلیغ، کوئی کوشش نظر نہیں آتی۔ بعض مذہبی لیڈر پاکستانی معاشرہ کی اصلاح کا حل یہ تجویز کرتے ہیں کہ اسمبلی میں کسی بل یا حکومتی آرڈر کے ذریعہ نفاذِ اسلام کا کام کرلیا جائے۔ ان کے خیال میں ایسا کرلینے سے ملک کے تمام مسائل حل ہوجائیں گے۔
اب یہاں اس بات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے کہ محض قوانین کے نفاذ سے ہی مطلوبہ درجہ تک اصلاح ہوسکتی ہے۔ کیا ملاوٹ کے خلاف ہمارے ملک میں قوانین موجود نہیں ہیں؟۔۔۔۔۔ ان قوانین کی موجودگی نے اس معاشرہ کو ملاوٹ سے پاک کردیا ہے؟۔۔۔۔۔ رشوت کے خلاف قوانین موجود نہیں ہیں؟۔۔۔۔۔ لیکن کیا ان قوانین کے باوجود ملک میں رشوت کا بازار گرم نہیں ہے؟۔۔۔۔۔ یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہیے کہ محض کسی قانون کا نفاذ معاشرہ کی اصلاح کا سبب نہیں بن سکتا۔
کفارِ مکہ نے ایک مرتبہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کو پیشکش کی کہ ہم آپ کو اپنا حکمران تسلیم کرلینے کے لئے تیار ہیں۔ اگر محمد صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم یہ پیشکش قبول فرمالیتے تو وہ آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم معاشرہ پر ایسے قوانین نافذ کرواسکتے تھے لیکن آپ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم نے یہ پیشکش قبول نہیں کی تھی۔ اصلاحِ احوال کے لئے نفوذ کی اعلیٰ ترین صلاحیت حاصل ہوئے بغیر محض کسی قانون کے نفاذ سے معاشرہ کے اعتقادات اور حالت میں تبدیلی لانا ممکن نہیں ہے۔
ہمارے قومی مسائل کا بنیادی سبب یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر محض زبان سے اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کا نام لیتے ہیں۔ لیکن ہم نے اپنی عملی زندگی میں قرآنی احکامات کے عملی نفوذ سے لاتعلقی اختیار کر رکھی ہے۔
پاکستان مملکت خداداد ہے۔ اس ملک کو اﷲتعالیٰ نے بے شمار وسائل سے نوازا ہے۔ پاکستانی قوم دنیا کی ایک نہایت باصلاحیت قوم ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس قوم کی صلاحیتوں سے ٹھیک طرح کام لیا جائے۔ پاکستانی قوم کی اعلیٰ تربیت اور اصلاح کے لئے جس قسم کا پروگرام درکار ہے۔ وہ ہمیں صرف اور صرف قرآنِپاک اور رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات سے مل سکتا ہے۔
ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ملک و قوم کی تعمیر و ترقی اور اصلاح احوال کے لئے قرآن پاک کی آیات کو اور رسول ﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیمات کو صحیح طور پر سمجھنے کی کوشش کریں۔ قرآن پر عمل انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو آسان، خوشحال اور محفوظ بناتا ہے۔ اﷲ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔
ترجمہ: لوگوں! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے۔ اب جو لوگ ﷲ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے، ان کو اﷲ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھا دے گا۔

[از : ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ، جولائی 2003ء ]

اپنے پسندیدہ رسالے ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کے مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے بذریعہ ای میل یا بذریعہ فیس بُک سبسکرائب کیجیے ہر ماہ روحانی ڈائجسٹ کے نئے مضامین اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر پر پڑھیے….

https://roohanidigest.online

Disqus Comments

مزید ملاحظہ کیجیے