قوموں کے لیے قدرت کے اصول

مرتبہ پوسٹ دیکھی گئی


قوموں کے لیے قدرت کے اصول

افراد اور قوموں کے لئے بھی قدرت کے کچھ مقررہ اصول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب کوئی قوم خود اپنی حالت بہتر بنانا نہیں چاہتی تو قدرت اُسے اس کے حال پر چھوڑ دیتی ہے دوسرا یہ کہ لیس للانسان الا ماسعٰی کے مصداق جو لوگ اپنی حالت بہتر بنانے کے لئے کوشش و جدوجہد کرتے ہیں قدرت ان کی مدد کرتی ہے اور وہ اپنی کوششوں کا پھل پاتے ہیں۔


 زندگی فرد کی ہو یا قوموں کی ۔۔۔۔۔نشیب و فراز ، عروج و زوال کے واقعات سے پُر ہوتی ہے۔ افراد ہوں یا اقوام جیسا مقصد یا منزل ان کے سامنے ہو، اُسی کی مناسبت سے دشواریاں اور رکاوٹیں ان کے سامنے آتی ہیں ۔ یہ بات سمجھنے کے لئے فوج کی مثال لیتے ہیں۔ فوج کی تربیت بہت کٹھن اور دشوار ہوتی ہے۔ کوئی شخص فوج میں سپاہی بننا چاہے تو اسے تربیت کے کٹھن مراحل طے کرنا ہوتے ہیں لیکن جب کوئی شخص فوج میں افسر بننا چاہے تو اس کی تربیت سپاہی کی تربیت سے کہیں زیادہ دشوار اور کٹھن ہوتی ہے۔ اس مثال کا زندگی کے کسی بھی شعبہ پر اطلاق کیا جاسکتا ہے۔ کٹھن تربیت کا ایک مرحلہ طے کرنے کے بعد عملی دور شروع ہوتا ہے۔ یہاں ایک خاص بات یہ شامل ہوجاتی ہے کہ جو تربیت حاصل کی گئی ہے اس سے عملی زندگی میں پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کے لئے کیا قرینہ اختیار کیا گیا ہے۔ افراد ہوں یا اقوام یہ کلیہ ہر جگہ اپنی اہمیت رکھتا ہے۔
 فرد کی زندگی کے معاملات میں روزگار کا حصول ، خاندان کی تشکیل ، اولاد کی بہتر دیکھ بھال اور ان کی اچھی تعلیم و تربیت بہت زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ قوموں کو درپیش معاملات میں معاشرہ میں نظم و ضبط کا قیام ، معیشت کا استحکام اور ملکی سلامتی کا تحفظ اہم ترین ہیں۔
 کسی قوم نے اپنے لئے جس مقام یا منزل کا تعین کیا ہوگا اسی مناسبت سے اسے مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے بھی اسی مناسبت سے فہم و فراست اور حکمت و دانش سے کام لینا ہوگا۔
 پاکستانی قوم کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ اس قوم نے اپنے لئے ایک نہایت اعلیٰ و ارفع مقصد چنا۔۔۔۔۔
 افراد اور قوموں کے لئے بھی قدرت کے کچھ مقررہ اصول ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب کوئی قوم خود اپنی حالت بہتر بنانا نہیں چاہتی تو قدرت اُسے اس کے حال پر چھوڑ دیتی ہے دوسرا یہ کہ لیس للانسان الا ماسعٰی کے مصداق جو لوگ اپنی حالت بہتر بنانے کے لئے کوشش و جدوجہد کرتے ہیں قدرت ان کی مدد کرتی ہے اور وہ اپنی کوششوں کا پھل پاتے ہیں۔
 چند صدیوں قبل یورپین اقوام بادشاہت اور چرچ کے تسلط اور استحصال کے تحت زندگی گزار رہی تھیں ۔ یہ وہ دور ہے جب ایشیاء کے ایک بڑے حصہ اور یورپ کے کچھ حصہ پر اسلامی مملکت اپنی پوری شان و شوکت کے ساتھ موجود تھی۔ یورپ میں جاگیردار اور نواب اپنے طبقاتی مفادات کی تکمیل کے لئے عوام کو علم سے محروم رکھنا چاہتے تھے۔ بادشاہ بھی چاہتے تھے کہ عوام شعور و آگہی سے دور ہی رہیں تو بہتر ہے ، یہ حکومت کرنے کا ایک آسان طریقہ تھا۔ بس چند جاگیرداروں اور نوابوں کو کچھ دے دلا دیا جائے تو ان کے مزارعے اور باقی رعایا کو قابو میں رکھنا آسان رہے گا۔ بادشاہوں کو عوام پر ظلم و جبر کرتے رہنے اور ضمیر کی خلش سے محفوظ رکھنے کے لئے چرچ نے ان کی بہت مدد کی۔ اس طرح بادشاہت چرچ اور جاگیرادروں کے گٹھ جوڑ سے یورپی معاشرہ صدیوں تک ظلم و جبر اور جہالت کی تاریکیوں کا شکار رہا۔ لیکن آخر کار لوگوں نے اپنی حالت تبدیل کرنے کا عزم کیا ، علم کے چراغ روشن ہوئے ۔ علم کانور پھیلانے والے ان لوگوں کا استقبال نہیں کیا گیا۔ چرچ نے بادشاہت کی مدد سے ان پر شدید مظالم ڈھائے لیکن اپنے اعلیٰ و ارفع مقاصد کے حصول کے لئے ان لوگوں نے ہر قسم کی رکاوٹوں کا مقابلہ کیا۔ اپنا سفر جاری رکھا۔ نتیجہ کیا نکلا؟؟۔ آہستہ آہستہ پوری قوم کی حالت تبدیل ہونے لگی ۔ دوسری طرف مسلمان ریاست کے حکمران و دانشور اور دیگر طبقات کے لوگ علم و دانش کے پھل کھاتے رہنے کے باوجود وقت کے تقاضوں سے غفلت کے مرتکب ہونے لگے۔ مسلمان بادشاہوں نے اپنے مفادات کی تکمیل کے لئے یورپین بادشاہوں کا سا انداز اختیار کرنا شروع کردیا انہوں نے بھی معاشرہ میں بالادست طبقات کی سرپرستی کی ۔ دین کا فہم عام کرنے کے بجائے محض اپنے مطلب کے چند لوگوں تک محدود کرنے کی کوشش کی گئی ، سرکاری مولویوں کی ایک کھیپ تیار کی گئی۔ یورپی اقوام اپنی حالت بہتر بنانے کی کوشش کررہی تھیں دوسری طرف خلافت اسلامیہ خوابِ غفلت میں مبتلا ہوتی جارہی تھی۔ آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔
 جس وقت یورپ تاریکی کے دور میں گھرا ہوا تھا اور جب خلافت ِ اسلامیہ زوال کی طرف جارہی تھی اس زمانے میں کیا لوگ اپنے کھیتوں پر ، کاروبار پر ، دفاتر وغیرہ میں نہ جاتے تھے۔ کیا اس زمانے میں فوج ، پولیس اور ملک کے دیگر ضروری ادارے موجود نہ تھے۔
 سب کچھ تھا۔ لوگ اپنے اپنے کام کاج پر بھی جاتے تھے۔ مملکت کے تمام ضروری ادارے بھی کام کررہے تھے۔ کمی تھی تو یہ کہ وہ لوگ اپنی فہم و فراست اور دانش و بصیرت کو صحیح طرح استعمال نہ کرتے تھے۔ وہ اپنے مسائل کے حل کے لئے صحیح فیصلے نہیں کرتے تھے۔ بلکہ ایسے فیصلے کرتے تھے جو بظاہر خوش نما معلوم ہوتے تھے ،جن سے وقتی آسانیاں میسر آتی تھیں لیکن جو درحقیقت قوم کو کمزور اور کھوکھلا کرنے کا باعث بنتے تھے۔
 پاکستانی قوم کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے ۔ اس قوم کی ایک خاص صفت یہ ہے کہ اس نے اپنے لئے ایک انتہائی اعلیٰ و ارفع مقصد چنا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لئے قدرت نے بڑی فیاضی کے ساتھ اس قوم کو بے شمار وسائل عطا فرما دیئے۔ اس دنیا کا ایک انتہائی شاندار اور زرخیز خطّہ جہاں دنیا کے مختلف ممالک کی کئی اجناس اُگائی جاسکتی ہیں۔ فصلوں اور آبادیوں کو پانی فراہم کرنے کے لئے رواں دواں دریا ، قیمتی معدنیات کے خزانے ، سرسبز سربفلک پہاڑ ، زرخیز میدان ، وسائل سے بھرپور سمندر اور نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے حامل لوگ ۔ دین اور دنیا دونوں کے معاملات میں کمال حاصل کرنے والی اس سرزمین سے روحانیت اور مادیت دونوں شعبوں میں کمال حاصل کرنے والی ہستیوں کا تعلق ہے۔ مملکت خدا داد پاکستان وہ خطۂ ارضی ہے جسے اﷲ کے دوستوں اولیائے کرام و صوفیائے کرام کی ایک بہت بڑی تعداد نے اپنا مسکن بنایا ہے اس خطہ کے لوگوں نے زندگی کے جس میدان میں قدم رکھا دنیا بھر سے اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کروایا لیکن ان تمام خوبیوں کے باوجود قومی زندگی میں ہماری کامیابی کی شرح ہمارے بعد آزاد ہونے والی کئی اقوام سے بھی بہت کم ہے۔ آزادی کی نصف صدی گزر جانے کے باوجود بھی ہم کئی بنیادی معاملات طے نہیں کرپائے۔
 اس کی بنیادی وجہ ہماری نظر میں یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہماری حکمتِ عملی ، ہماری ترجیحات ، ہمارے اختیار کردہ اعلیٰ و ارفع مقصد سے ہم آہنگ نہ تھیں۔ یہ اتنی بڑی غلطی تھی جس کی بدولت ایک ایسی قوم جسے امت وسطہ کا شرف حاصل ہونے والا تھا ۔ ایک کمزور مجبور اور مقروض قوم بن کر رہ گئی۔
 ترجیحات کے تعین میں غلطی کہا ںہوئی۔۔۔۔۔؟
 جس طرح شیر اور بکری دونوں میں بھوک کے تقاضے یکساں ہونے کے باوجود ان کی خوراک کی ضروریات اور رہن سہن کے انداز مختلف ہیں۔ جس طرح کوا  اور شاہین دونوں گوشت خور ہونے کے باوجود اپنی علیٰحدہ فطرت اور مختلف تقاضے رکھتے ہیں اسی طرح قوموں کے نظریات کی بناء پر ان کے تقاضے اور ضروریات بھی مختلف ہوتی ہیں۔
 پاکستانی قوم کی بنیادی غلطی یہ رہی کہ اس نے اپنے لئے نظام مرتب کرتے وقت اس ’’نسخہ ٔ کیمیا‘‘ سے فیض نہیں اٹھایا جو اس کو تمام ضروریات اور ہر قسم کے مسائل کا شافی حل فراہم کرتا ہے۔
 یہ ’’نسخہ ٔ کیمیا‘‘ قرآن پاک اور اسوۂ رسول صلی اﷲ علیہ وسلم ہے۔ ہم نے اپنے لئے جو اعلیٰ مقصد چنا اس کے حصول کے تمام طریقے تو قرآن پاک اور حضرت محمد مصطفٰے صلی اﷲ علیہ وسلم کی عطا کردہ تعلیمات میں ہیں۔ ہماری کوتاہی ٔنظر دیکھئے کہ ہم اپنے خالق و مالک اﷲ وحدہ لاشریک کی عطا کردہ رہنمائی کو چھوڑ کر اپنی ناقص عقل کے بل بوتے پر نئے نئے تجربات کرنے بیٹھ گئے۔
 نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔
 اب بھی وقت ہے کہ ہم اﷲ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ نبھانے کا عہد کریں۔ اس عہد پر ثابت قدمی کے ساتھ عمل پیرا ہوجائیں۔ ہمارے حالات نہایت مختصر وقت میںبدل سکتے ہیں۔ قوموں کی برادری میں ہم نہایت شاندار مقام حاصل کرسکتے ہیں۔ ایسے میں مملکت پاکستان اپنے تمام باسیوں کے لئے خواہ وہ مسلمان ہوں ، عیسائی ہوں ، ہندو ہوں ، پارسی ہوں ، سکھ ہوں یا کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ سب کے لئے سلامتی و عافیت کا مسکن بن جائے گی۔ یہ مملکت تمام عالم کے لئے امن و سلامتی کا مرکز ہوگی جہاں سے علم کے سر چشمہ جاری ہوں گے۔ جہاں ہر شہری کو تحفظ میسر ہوگا۔ جہاں سب کے لئے روزگار ترقی و خوشحالی کے یکساں مواقع ہوں گے۔ اگر ہم نے اﷲ تعالیٰ سے کیا ہوا وعدہ پورا کرنے کے لئے عملی اقدام نہ کئے تو نہیں کیا جاسکتا کہ ہمارا انجام کیا ہوگا۔ کیونکہ اﷲتعالیٰ تو بے نیاز ہے۔


[از : ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ، جون 2002ء ]

[ کتاب حق الیقین، صفحہ 67-70 ]




اپنے پسندیدہ رسالے ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کے مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے بذریعہ ای میل یا بذریعہ فیس بُک سبسکرائب کیجیے ہر ماہ روحانی ڈائجسٹ کے نئے مضامین اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر پر پڑھیے….

https://roohanidigest.online

Disqus Comments

مزید ملاحظہ کیجیے