اپنی ذات کے تسلسل کا احساس

مرتبہ پوسٹ دیکھی گئی


 اپنی ذات کے تسلسل کا احساس

اولاد کا ملناجہاں اﷲتعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے وہیں والدین پر ایک ذمہ داری بھی ہے۔  
اولاد کی اچھی تربیت والدین کے لئے دنیامیں عزت و سربلندی اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔

اولاداﷲتعالیٰ کی عظیم ترین نعمتوں میں سے ہے۔ ہرذی نفس اولاد کے ذریعہ اپنی تکمیل اور اپنی ذات کے تسلسل کے احساس سے سرشار ہوتاہے۔ اولاد کے ساتھ تعلق صرف انسان کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ہے۔ یہ تعلق انسان، حیوان، جنات اور بقائے نسل کا سلسلہ رکھنے والی ہر نوع کی مشترکہ خصوصیت ہے۔ مختلف نوعوں میں اولاد کے ساتھ تعلق کا اظہار مختلف طریقوں سے نظر آتاہے۔ ماں کی اولاد کے ساتھ محبت کو تو کسی دنیاوی پیمانہ سے ناپا ہی نہیں جاسکتا۔ اﷲ تعالیٰ مخلوق کے ساتھ اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں تو وہاں بھی ماں کی محبت بطورِ مثال سامنے آتی ہے کہ اﷲتعالیٰ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتاہے۔ بالفاظ دیگر اﷲکی اپنی مخلوق سے محبت ماں کی محبت سے ستّر گنازیادہ شدید ہے۔ ماں کی محبت کا حال یہ ہے کہ اسے نہ تو کسی دنیاوی پیمانے سے ناپاجاسکتاہے اور نہ کسی دوسری محبت سے نسبت بیان کی جاسکتی ہے۔ ماں کی محبت گویا سمندروں سے گہری، پہاڑوں سے زیادہ بلند اور مضبوط، سورج سے زیادہ روشن، چاند کی چاندنی سے زیادہ نرم اور حیات بخش ہواؤں کی طرح اولاد کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔
اولاد کے حصول کی تمنا ایک قدرتی امر ہے۔ انسانوں میں اﷲتعالیٰ کی مرضی کے سب سے زیادہ شناسا اور اﷲکی رضا پر سب سے زیادہ راضی رہنے والی مقدس ہستیاں وہ ہیں جنہیں اﷲ کے پیغمبر یا نبی ہونے کاشرف عطا ہوا۔ ان ہستیوں میں بھی اولاد کے حوالے سے تمام تر فطری تقاضے موجود تھے۔ اﷲ کے نبی حضرت زکریاعلیہ السلام کے ہاں جب اولاد ہونے میں تاخیر ہوئی تو آپ نے اﷲ تعالیٰ سے اپنے لئے اولاد مانگی۔
رب ھب لی من لدنک ذریتہ طیبتہ انک السمیع الدعا
اے میرے رب!اپنے پاس سے مجھے پاکباز اولاد عطافرما۔ بے شک تو دعاؤں کا سننے والاہے۔(سورۂ آلِ عمران)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اﷲتعالیٰ نے ابو الانبیاء ہونے کا شرف عطافرمایا، انہوں نے دُعافرمائی تھی۔
اے پروردگارمجھے اولاد عطافرما جو سعادت مندوں میں سے ہو۔
تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے(اسمٰعیل) کی خوشخبری دی۔(سورۂ الصفٰت)
یہ ہمارا روز کا مشاہدہ ہے کہ انسان اولاد کو پاکر بہت خوش ہوتاہے۔ ماں باپ اپنی اولاد کی بہتر نشونما اور اچھی سے اچھی یکھ بھال کے لئے جو کچھ ان کے بس میں ہوتاہے کرتے ہیں۔ دن بھر کے کاموں سے تھکی ماندی ماں شیر خوار لختِ جگر کے آرام کی خاطر خود بستر کے گیلے حصہ پر لیٹ جاتی ہے لیکن بچہ کے آرام میں خلل برداشت نہیں کرتی۔ماں چاہتی ہے کہ اس کا بچہ سکون سے سوتارہے۔ اس کی نیند خراب نہ ہو حالانکہ بچہ نے دن کے وقت بھی آرام ہی کرنا ہے۔ جب کہ ماں کو دن میں سینکڑوں کا م نمٹانے ہیں۔ بچہ کاباپ بچے کی بہتر نشونما اس کی ماں کا ہاتھ بٹانے کے لئے کیسی کیسی تگ ودو میں لگارہتاہے۔
ماںاورباپ دونوں کی کوشش و جدوجہد کا مقصد یہ ہوتاہے ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی سے اچھی پرورش کرسکیں۔ انسان سمجھتاہے کہ اس کی اولاد اس کا تسلسل ہے۔ وہ سمجھتاہے کہ اس کی اولاد اس دنیامیں اس کے اپنے وجود کی شہادت ہے۔ کسی کے ہاں اولاد نہ ہو تو وہ گھر میں ایک معصوم وجودد کی عدم موجودگی سے ہی اداس نہیں رہتابلکہ اس کی اداسی کا ایک بڑا سبب یہ احساس بھی ہوتاہے کہ اولادنہ ہونے سے اس کی نسل آگے نہیں چلے گی۔ انسان اپنی اولاد کو خوش و خرم دیکھنا چاہتاہے وہ اس کے لئے ایک بہترمستقبل کی تمّنا رکھتاہے۔ ہر شخص یہ چاہتاہے کہ اپنی زندگی میں اسے جن دشواریوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا س کی اولاد ان سے محفوظ رہے۔ہر شخص چاہتاہے کہ دنیامیں جو مقام وہ حاصل نہ کرسکا اس کی اولاد ان سے محفوظ رہے۔ ہر شخص چاہتاہے کہ دنیامیں جو مقام وہ حاصل نہ کرسکا اس کی اولاد حاصل کرلے۔ کہتے ہیں دوسروں کی کامیابی پر لوگوں کو خوش ہونے کی ایک حد ہوتی ہے۔ اپنے اپنے ہنر اور اپنے شعبۂ زندگی میں کوئی بھی شخص دوسروں سے پیچھے رہنایا ہارنا نہیں چاہتا۔ ہر شخص خود جیت کر خوش ہونا چاہتاہے لیکن ایک جگہ انسان وسرے کو اپنے سے آگے نکلتے دیکھ کر خوش ہوتانظر آتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والے اور آگے بڑھ جانے والے یہ دو لوگ کون ہیں؟…ان میں ایک باپ ہے اور دوسرا بیٹا…
یہ حقیقت ہے کہ زندگی کی دوڑ میں باپ اپنی اولاد سے آگے نکلتے دیکھ کر نہایت فخر اور خوشی محسوس کرتاہے۔ کسی حوالدار یا صوبیدار کے بیٹے کو فوج میں کمیشن مل جائے اور وہ افسر کی وردی میں باپ کے سامنے آئے تو باپ بیٹے کودیکھ کر کوئی احساسِ محرومی نہیں بلکہ فخرو عزت محسوس کرتاہے۔ ہر ماں کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بیٹی اس سے کئی گنا زیادہ پر مسرت اور پرسکون زندگی بسرکرے۔ماں اپنی بیٹی کو دلہن بنے دیکھ کرجو خوشی محسوس کرتی ہے ۔ اسے الفاظ میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ہرماں کی خواہش ہوتی ہے کہ جن دشواریوں اور پریشانیوں کا سامنا اسے کرنا پڑاہے اس کی بیٹیپر ان کا سایہ تک نہ پڑے اور وہ اپنے شوہر کے ساتھ خوشیوں اور مسرتوں سے بھر پور زندگی گزارے۔
اولاد انسان کی آنکھوں کی ٹھنڈک اس کے دل کا چین اور اس کی روح کی تسکین ہے۔ ہر شخص اپنی اولاد کو فلاح و کامیابی کی تمّناکرتاہے۔ باپ اپنے بیٹے کے بہترمستقبل کے لئے کئی طرح کی تکالیف سہتاہے۔ماں اولاد کے لئے اپناآرام و سکون قربان کردیتی ہے۔ بچہ جب چھوٹاہوتاہے تو اسے بیماریوں سے بچانے اور اس کی بہتر نشو نما کے لئے کیا جتن نہیں کئے جاتے۔ بچے کے دود ھ کے برتن، اس کی بوتل، بچے کے کپڑے، اس کابستر غرض ہر چیزخاص اہتمام کے ساتھ صاف ستھری جگہ پر رکھی جائے۔ مکھیوں اور مچھروں سے بچانے اور اس کے آرام کی خاطر کمرہ کو بطورِ خاص صاف رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سب جتن اس لئے ہوتے ہیں کہ اس دنیامیں آنے والا بچہ اپنی زندگی کے ابتدائی میں بیماریوں اور مشکلات کا شکار نہ ہوجائے۔ اس کی صحت اچھی رہے اور اس کی اچھی نشوونماہوسکے۔سب اُن کے لئے کیا جاتاجن سے توقع ہے کہ وہ بڑے ہوکر والدین کا دست وبازو اور ان کے فخر کا سبب بنیں گے۔ دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جاسکتاہے کہ یہ دیکھ بھال اپنے جانشینوں کی ہے۔ والدین کی بہتر دیکھ بھال سے بچہ کی نشو ونما ہو اور وہ ایک خوبصورت، تندرست و توانا جوان اُبھرے تو خاندان بھر کے لئے یہ بڑی خوشی کی بات ہوگی، مگر کسی گھرانے کالڑکا صحت مند وتوانا جوان بن کر اُبھرے توخاندان بھر کے لئے یہ بڑی خوشی کی بات ہوگی، مگر کسی گھرانے کا لڑکاصحت مندوتواناتو ہو لیکن اعلیٰ اخلاقی اوصاف سے بہرہ ور نہ ہو۔ اس کی ذات لوگوں کے لئے منفعت کاسبب نہ ہو، مغرور، بد تمیزاور بد زبان ہو، جھوٹ بولتاہو، لوگوں کو تکلیف دیتاہواور دوسری کئی خرابیوں میں مبتلا ہو تو کیا ایسا کڑیل جوان والدین کے لئے آخرت میں سرخر وئی کا سبب بنے گا؟…
موت اس دنیا میں زندگی کے خاتمہ اعلان ہے۔ موت کے ساتھ ہی اعمال نامہ سر بہمر کردیاجاتاہے اور انسان دارلاعمل سے عالم انتظار میں منتقل ہوجاتاہے لیکن بعض اعمال ایسے ہیں جن کے اجر میں مرنے کے بعد بھی اضافہ ہوتارہتاہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ’’جب انسان مرجاتاہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتاہے مگر تین قسم کے اعمال ایسے ہیں کہ ان کا ثواب مرنے کے بعد بھی ملتارہتاہے۔ ایک یہ کہ وہ صدقہ جاریہ کرجائے، دوسرے ایسا علم چھوڑ جائے جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں، تیسرے نیک اولاد جو اس کے لئے دعا گور ہے‘‘۔
نبی کریم ﷺ کے فرمان صرف اولاد کاذکر نہیں ہے جو اپنے والدین کے لئے دعا کرتی رہے بلکہ ایسی اولاد کا ذکر ہے جو والدین کی کوششوں اور تربیت کے باعث نیک انسانوں کی صف میںشامل ہوئی۔ باب العلم حضرت علی مرتضی کرم اﷲوجہہ فرماتے ہیں کہ’’ ایک بچے کا دل خالی زمین کی طرح ہوتاہے اس میں جو دانہ بویا جائے وہ اسے قبول کرلیتاہے‘‘۔
نبی کریم ﷺ نے اپنی اولاد کو اچھی راہ پر گامزن رکھنے کی کوشش کرنے والوں کو اپنی دعا سے نوازا ہے۔
ارشاد نبوی ﷺ ہے’’ اس پر اﷲکی رحمت ہو جو اپنی اولاد کو نافرمانی کی راہ پر نہیں چلنے دیتا‘‘… ایک اور جگہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے کہ ’’ انسان کو سب سے بہترین عطیہ اولاد کو دیتاہے وہ اچھی تربیت ہے‘‘۔
قرآن میں اہلِ ایمان کو اولاد کے بارے میں ان کے فرائض سے آگاہ کیاگیاہے۔ نبی کریم ﷺ نے کئی بار اولاد جن میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل ہیں کی تربیت کے حوالے سے رہنمائی فرمائی ہے۔ اچھی اولاد انسان کے لئے صدقہ جاریہ کے مترادف ہے۔ اولاد دنیامیں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے تو آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔
اولادکی محبت ایک نہایت عجیب چیز ہے۔ بعض انسان اولاد کی اس محبت میں کچھ اس طرح ہوش وخرد سے بیگانہ ہوتے ہیں کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اولاداﷲتعالیٰ نے بطور امانت عطاکی ہے۔ وہ اﷲتعالیٰ کی اس عطا کے معاملہ میں خود اﷲتعالیٰ کے احکامات سے رو گردانی کے مرتکب ہونے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں قرآن تنبیہہ کرتاہے اور انہیں باوجود اہلِ ایمان ہونے کے خسارے میں رہ جانے والے قرار دیتاہے۔
مومنو!تمہارا مال اور تمہاری اولاد تم کو اﷲکی یاد سے غافل نہ کردے اور جوایساکرے گاتو وہ لوگ خسارہ اُٹھانے والے ہیں۔ (سورۂ المنٰفقون)
اولاد جہاںاﷲتعالیٰ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے وہیں ایک آزمائش بھی ہے۔
تمہارا مال اور تمہاری اولاد تو در حقیقت آزمائش ہیں(اس آزمائش سے سرخرو ہونے والے والدین کے لئے) اﷲکے پاس بڑا اجر ہے۔ (سورہ تغابن)
قابل غور بات یہ ہے کہ ہم میںسے اکثرلوگ اپنی اولاد کی جسمانی صحت و مادّی تعلیم کی طرف تو بہت توجہ دیتے ہیںاور ان کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن… جو چیز پائیدار ہے اور والدین کی آخرت کی کمائی ہے یعنی اچھی تعلیم اور کردار سازی، اس کی طرف بہت سے والدین کی توجہ بالکل نہیں ہے۔ انسان اولاد کی خواہش اس لئے کرتاہے کہ دنیامیں اس کی نسل چلتی رہے اس کا نام باقی رہے اور اسے اجر ملتارہے۔ ہمارے دادا پر دادا نے بھی ایسی ہی خواہش کی ہوگی لیکن ذراسوچئے ہم میں سے کتنے ہیں جو اپنے پر دادا کو یاد کرنا اور انہیں ایصالِ ثواب کرنا تو ایک طرف ان کے نام سے بھی واقف ہوں گے۔ ماضی میں بھی اور آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس عالمِ فانی میں شان و شوکت کے حصول کے لئے ما ل اور اولاد پر انحصار کیا۔ ایسے کئی لوگوں نے نہ اپنے مال کو نیک کاموں میں خرچ کیا نہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت پر توجہ دی اس کا نتیجہ کیا نکلا؟…نہ ان کا مال جمع کیا ہوا ان کے کام آیا، نہ اولاد۔ بلکہ بہت سے گھرانوں میں تو باپ کا جمع کیا ہوا زرو جواہرات کا خزانہ اولاد کے درمیان نفرتوں اور دشمنیوں کا سبب بن گیاہے۔ گو یا روپیہ سانپ بن کر اپنے مالکوں کو ڈس لینے کے درپے ہیں۔یہ ان لوگوں کا حال ہے جنہوں نے روپیہ کمانے میں اور اولاد کی محبت میں اﷲکے احکامات اور رسول اﷲﷺ کی تعلیمات سیرو گردانی کی۔ چنانچہ وہ اولاد جس کی تربیت میں اﷲاور اس کے رسول ﷺ کی محبت اورفرمانبرداری بطور جزوِ اعظم شامل نہ ہووالدین کے لئے اپنے بچپن میں جزوی خوشیوں کا سبب تو ضرور بنتی ہوگی لیکن بعد میں اس کے کئی کرتوت والدین کے لئے صدقہ جاریہ کے بجائے شرمندگی کا سبب بن جاتے ہیں۔ یہ وہ حالت ہے جہاں انسان اشرف المخلوقات کے درجہ سے گر کر اسفل السافلین میں پڑا نظرآتاہے۔
قرآن پاک میں ارشادہوتاہے:
 یہ مال اور یہ اولاد محض دُنیوی زندگی کی آرائش ہیں۔ اصل میں تو نتیجہ کے لحاظ سے باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔(سورۂ الکھف46)
اولاد کا ملناجہاں اﷲتعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے وہیں والدین پر ایک ذمہ داری بھی ہے۔ ذراسوچئے اولاد ملنے پر خوشی منانے والے کتنے والدین ہیں جو ان ذمہ داریوں سے بھی پوری طرح آگاہ ہیں۔ اولاد کی اچھی تربیت والدین کے لئے دنیامیں عزت و سربلندیاور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اولاد ملنے پر ماں باپ کویہ عہد کرنا چاہئیے کہ ہم اپنے بچے کی تربیت و نگہداشت اﷲکی رضااور محمد ﷺکی شفاعت کے جذبہ سے کریں گے۔
بچہ جب بولنا شروع کرے تو رسول اﷲﷺ کے فرمان کے مطابق اسے سب سے پہلے لاالہ الا اﷲ کہنا سکھائیں اور جب بچہ کی زبان کھل جائے تو اسے قرآنی آیات سکھائیں۔ نبی کریم ﷺ کے خاندان میں جب کسی بچہ کی زبان کھلتی تو آپ ﷺ اسے سورۂ فرقان کی یہ آیت سکھاتے:
الذی لہ ملک السموت والارض ولم یتخذ ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک وخلق کل شیء فقدرہ تقدیراo
ترجمہ:’’اﷲآسمانوں اور زمین کا مالک ہے جس نے کسی کو بیٹانہیں بنایاہے، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کی تخلیق کی اور پھر اُس کی موزوں تقدیر مقرر فرمائی‘‘۔



[از : ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ، اکتوبر 2002ء ]

[ کتاب حق الیقین، صفحہ 151-156]

اپنے پسندیدہ رسالے ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کے مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے بذریعہ ای میل یا بذریعہ فیس بُک سبسکرائب کیجیے ہر ماہ روحانی ڈائجسٹ کے نئے مضامین اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر پر پڑھیے….

https://roohanidigest.online

Disqus Comments

مزید ملاحظہ کیجیے