دس روپے کے لیے بد دعا

مرتبہ پوسٹ دیکھی گئی

دس روپے کے لیے بد دعا


سوال: 

محترم ڈاکٹر وقار یوسف عظیمی صاحب! میں روحانی ڈائجسٹ کا بہت پرانا قاری ہوں۔ اخبار میں  آپ کا کالم ‘‘روشن راستہ ’’ بھی میں باقاعدگی سے پڑھتا تھا۔ مختلف مسائل کے حل تجویز کرتے ہوئے آپ کے جوابات انتہائی متاثر کن اور فکر انگیز ہوتے ہیں۔ آپ کی تحریروں سے مجھے زندگی کے معاملات کو مثبت انداز سے دیکھنے اور شیڈول کرنے کی تربیت ملی ہے۔
کالم ‘‘روشن راستہ ’’ میں آپ نے دس روپے کے لیے بددعا کے زیرِ عنوان ایک مسئلہ کا جواب تحریر کیا تھا۔ میری آپ سے درخواست ہے کہ یہ تحریر روحانی ڈائجسٹ میں شائع فرمادیں۔ اس درخواست کی وجہ یہ ہے کہ روحانی ڈائجسٹ کے بہت سے قارئین آپ کے والد محترم خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی اور آپ کی تحریروں کا مکمل ریکارڈ رکھتے ہیں۔
دیگر اخبارات یا رسائل میں چھپنے والی ان تحریروں کی روحانی ڈائجسٹ میں اشاعت کی وجہ سے انہیں یکجا کرنا اور محفوظ کرنا آسان ہوجائے گا۔ دوسرے یہ کہ ملک اور بیرونِ ملک پھیلے ہوئے روحانی ڈائجسٹ کے ہزارہا قارئین تک  آپ کی گرانِ قدر تحریریں پہنچ جایا کریں گی۔


جواب: محترم! آپ کی خواہش کی تعمیل میں برسوں پہلے شائع شدہ ایک مسئلہ اور اس کا جواب کالم روحانی ڈاک میں شائع کیا جارہا ہے۔ 
سوال:میری دکان علاقے کی دوسری دکانوں کی نسبت بہت اچھی چلتی تھی۔ دُکان کھلنے سے بند ہونے تک کوئی نہ کوئی گاہک ہر وقت دکان پر ہوتاتھا۔ میں برابر کی دکان لینے کے لیے بھی سوچ رہاتھا ۔میری دکان پر کوئی فقیر آتا تو میں اسے ایک روپیہ یا دوروپے   دے دیا کرتاتھا۔ چند ماہ قبل ایک فقیر میری دکان پرآیا ۔میں نے اسے ایک روپیہ دے دیا اس نے ایک روپیہ نہیں لیا اور دس روپے مانگے۔ اس پر میں نے اسے دو روپے دے دیے مگر اس نے مجھ سے دس روپے لینے پر بہت اصرار کیا۔
مجھے اس فقیر پرغصہ آگیا میں نے اسے ڈانٹا اوربُرا بھلا کہتے ہوئے اپنی دکان سے بھگادیا۔ دکان سے جاتے وقت اس فقیر نے مجھ سے تو کچھ نہ کہا لیکن اُداس نظروں سے دیکھتاہوا چلا گیا۔ اس دن کے بعد وہ فقیر ہمارے علاقے میں پھر کبھی نظر بھی نہیں آیا۔
عظیمی صاحب! اس واقعہ کے تیسرے دن میری دکان میں ناسمجھ آنے والی وجہ سے آگ لگ گئی، دکان پانچ روز بند رہی۔ جب دکان دوبارہ کھلی تو گاہگ  آنا کم ہوگئے۔ بعض پرانے پرانے گاہک اب نہیں آتے۔ جہاں پہلے لوگوں کا رش رہتاتھا اب وہاں کافی دیر تک خالی بیٹھے رہنا پڑتاہے۔
بعض دوستوں کاکہنا ہے کہ اس فقیر کی بددعا کی وجہ سے کاروبار ٹھپ ہورہاہے۔اگر ایسا ہے تو میں اس سے معافی مانگنے کوتیارہوں مگر میں اسے کہاںڈھونڈوں....؟
برائے مہربانی آ پ میری رہنمائی کیجئے کہ میں اپنی غلطی کا ازالہ کیسے کروں اور کوئی کلام بتائیں جس کی برکت سے میرا کاروبار پہلے کی طرح اچھاہوجائے۔




<!....ADVWETISE>
<!....ADVERTISE> 

جواب:

یہ ضروری نہیں ہے کہ اس فقیر نے دس روپے نہ ملنے پر آپ کوبددعا دی ہو۔ اس بناپر کہا جاسکتاہے کہ کاروبار خراب ہونے کی وجہ اس  فقیر کی بددعانہیں ،لیکن یہ بات ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہم بظاہر اپنی کوششوں سے جو کچھ بھی کماتے ہیں وہ درحقیقت اﷲ تعالیٰ کا فضل وکرم ہی ہوتاہے۔ انسان جو کچھ کماتاہے اس میں اس کی ذات اور اس کے اہل خانہ کا بھی حصہ ہے اور اس آمدنی میں دوسرے لوگوں کے حقوق بھی رکھے گئے ہیں۔ ان لوگوں میں قریبی رشتہ دار ،پڑوسی اور معاشرہ کے دیگر افراد شامل ہیں۔
ضرورت مندوں کی مددکرنا ،انہیں سہارا دینا اﷲاور اﷲ کے رسول ﷺ کی نظروں میں ایک بہت پسندیدہ عمل ہے۔ سائل کوجھڑکنا اس کی توہین کرنا بہت نا پسندیدہ افعال ہیں۔جو لوگ سائلوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں سائلین ان کے لئے منہ سے بددعا کے الفاظ نہ بھی نکالیں پھر بھی نظام قدرت کے تحت ایسے لوگوں پر سے برکتیں دورہوسکتی ہیں۔
برکتیں دورہونے کا یہ عمل کبھی  فوری طور پر ہوسکتاہے اور کبھی اس میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ان معاملات میں ہم سب کو چند باتوں کا خیال رکھناچاہیے۔
*....یہ بات ہمیشہ ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ہر صاحب نصاب  کی آمدنی میں دوسروں کے مالی حقوق بھی ہیں۔ 
*....کسی بھی ضرورت مند کی حتیٰ المقدور. مدد خوش دلی سے کی جانی چاہیے۔
*....کبھی کسی سائل کو دینا نہ ہوتو نرم الفاظ میں اسے منع کرنا چاہیے ۔اس کے ساتھ درشتی سے بات نہیں کرنی چاہیے لیکن خوش حال شخص کو حقدار کی مدد سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہئے۔
*.... اسلام گداگری کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا۔پیشہ ور گداگر اور حقیقی ضرورت مندوں کے معاملات مختلف ہوتے ہیں لیکن کسی کے ساتھ بھی توہین آمیز سلوک جائز نہیں۔ دوسروں کی توہین کرنا کسی انسان میں کبر کی موجودگی کو ظاہر کرتاہے۔ انسانوں میں کبر اﷲتعالیٰ کو سخت ناپسندہے۔
ہم میں سے ہر ایک کو اﷲ تعالیٰ سے دعا کرنا چاہیے کہ ان صفات کو اختیار کرنے کی توفیق عطا ہو جواﷲ تعالیٰ کی پسندیدہ ہیں اور ان صفات سے ہمیں نجات ملے جو اﷲ کوناپسند ہیں۔
رسول اﷲﷺ کی تعلیمات کے مطابق صدقہ خیرات مشکلات سے نجات کا ذریعہ ہے۔ 
اس فقیر کوڈھونڈنا اور اس کی توہین پر اس سے معذرت کرنا ممکن نہیں تو آپ دل سے اپنے طرزعمل پر اﷲ تعالیٰ سے معافی طلب کیجئے۔ اپنے مزاج میں عاجزی وتواضع اختیارکرنے کی کوشش کیجئے اور حسب استطاعت صدقہ خیرات کیجئے۔
اس کے ساتھ ساتھ عشاء کی نماز کے بعد 101مرتبہ سورہ یونس کی آیت 57

يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَـةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَشِفَـآءٌ لِّمَا فِى الصُّدُوْرِۙ وَهُدًى وَّرَحْـمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ 

اول و آخر گیارہ گیارہ مرتبہ  درود شریف کے ساتھ پڑھ کرکاروبار میں برکت وترقی اور وسائل میں اضافہ کے لئے دعا کریں ۔
یہ عمل کم ازکم چالیس روز  تک جاری رکھیں۔
 چلتے پھرتے وضو بےوضو کثرت سے اللہ تعالیٰ کے اسماء  یَاغَفَارُ یَاکَرِیْمُ  کا  ورد کرتے رہا کریں۔  

اپنے پسندیدہ رسالے ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کے مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے بذریعہ ای میل یا بذریعہ فیس بُک سبسکرائب کیجیے ہر ماہ روحانی ڈائجسٹ کے نئے مضامین اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر پر پڑھیے….

https://roohanidigest.online

Disqus Comments

مزید ملاحظہ کیجیے