اپنے خواب اپنی مرضی کے مطابق دیکھیے - 7

مرتبہ پوسٹ دیکھی گئی


اپنے خواب اپنی مرضی کے مطابق دیکھیے 



(حصہ ہفتم )

بعض لوگ کہتے ہیں کہ انہیں خواب نظر نہیں آتے.....؟

ہرانسان ایک نیند میں چار سے چھ خواب دیکھتا ہے

خواب یاد نہ رہنے کی  وجوہات 


بعض لوگ کہتے ہیں کہ انہیں خواب نظر نہیں آتے یا عرصہ ہوا انہوں نے کوئی خواب نہیں دیکھا۔   
سائنسی ماہرین کی تحقیق  سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے لوگ  بھی  جو خواب نہ آنے کا ذکر کرتے ہیں  حقیقتاً ہر رات چار سے چھ خواب دیکھتے ہیں مگر انہیں خواب یاد نہیں رہتے۔ 

ایسا کیوں ہے کہ بعض لوگ کو خواب یاد رہتے ہیں اور بعض لوگوں کو خواب یاد ہی نہیں رہتے۔ ...؟

خوابوں کا تعلق نیند کے حواس سے ہے ۔اس لئے خوابوں کی حقیقت سمجھنے کے لئے پہلے سمجھنا  ہوگا کہ نیند کیا ہے؟   

ماہرین کا کہنا ہے کہ نیند جسمانی صحت کے لیے ضروری ہے کیونکہ نیند کے دوران جسم کے تمام ٹوٹے پھوٹے خلیات کی جگہ نئے خیالات بنتے ہیں۔  نیند کی کیفیت مختلف لوگوں میں، مختلف علاقوں، مختلف خلیاتی افعال میں اور مختلف پیشوں کے لوگوں میں مختلف ہوتی ہے، بعض  میں کسی قدر کم گہری ہوجاتی ہے۔ بعض لوگ تو اس دوران معمولی سی آواز سے بھی بیدارہوجاتے ہیں، مگر دو گھنٹوں میں نیند بہت گہری ہوجاتی ہے۔ سونے کے اوقات مختلف لوگوں کے الگ الگ ہوتے ہیں مگر ابتدائی کیفیت کم وبیش مشترک ہی ہوتی ہیں۔ 

سائنسدانوں نے نیند کو دو اقسام میں تقسیم کیاہے  
این ۔ریم سلیپ NREM SLEEP  اور  ریم سلیپ     REM SLEEP 


این۔ ریم سلیپ نیند کے چار ابتدائی ادوار ہیں جبکہ ریم سلیپ نیند کا بالکل الگ اور آخری دور ہے  ،   این ریم سلیپ کے پہلے دور میں   جسم خود کو سونے کے لئے تیار کرتا ہے۔اس کا دورانیہ  پانچ سے  دس منٹ  تک ہوسکتا ہے۔ عام زبان میں اسے کچی نیند بھی کہا جاتا ہے۔  دوسرے  دور میں خمار  طاری ہوتا ہے ، اس مرحلہ کا دورانیہ بیس منٹ تک ہوتا ہے ۔ اسے  سلیپ سپینڈل کا نام دیا جاتا ہے۔ تیسرا  دور، غنودگی کا ہوتا ہے  دماغ سے خارج ہونے والی لہروں کا طولِ موج  بڑھ جاتا ہے اور رفتار مزید سست ہوجاتی ہے  یہ ڈیلٹا لہریں کہلاتی ہیں ۔انہی کی مناسبت سے نیند کے اس دور کو ڈیلٹا سلیپ بھی کہا جاتا ہے ۔اس دوران بیرونی مداخلت نیند سے جگانے میں ناکام رہتی ہے۔چوتھا دور گہری نیند کا ہوتا ہے ۔
گہری نیند جیسے ہی اپنی انتہا پر پہنچتی ہے نیند کا  ایک نیا دور شروع ہوجاتا ہے ۔جس میں دماغ کے دائیں حصے کی سرگرمی بڑھ جاتی ہے ۔جسم میں خون کی ترسیل تیز ہوجاتی ہے۔ آنکھوں کی پتلیوں کی حرکت تیز ہوجاتی ہے۔نیند کے دوران آنکھوں کی پتلیوں کی  یہ حرکت  ریمREM سلیپ یعنی Rapid Eye movement Sleep کہلاتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جب ہم خواب دیکھتے ہیں۔



 ریم سلیپ کے پورے ہونے کے بعد  لہروں کا اخراج  واپس نیند دوسرے دور کی جانب ہوجاتا ہے اور  پھر سے نیند کی یہ سائیکل شروع ہوجاتی ہے۔ 
سائنسدان کے مطابق سلیپ سائیکل  کے ہر نوے منٹ بعد ریم سلیپ کے مرحلے میں داخل ہوتے ہیں۔ اس طرح رات سونے سے لے کر صبح جاگنے تک ، ہم تین چار بار مزید اس عمل سے گزرتے ہیں مگر جاگنے کے بعد ، شعوری حافظہ ، ان خوابوں کی تفصیل بھول چکا ہوتا ہے۔ خواب کی یہ تصویریں ، بقول ماہرین نفسیات ، اجتماعی لاشعور میں چلی جاتی ہیں۔ 



<!....ADVWETISE>
<!....ADVERTISE> 


خواب یاد نہ رہنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ نیند کے ابتدائی (1/3) ایک تہائی حصے میں خوابوں کے وقفے بہت مختصر ہوتے ہیں اور نیند بہت گہری ہوتی ہے۔ ان خوابوں کے دوران یا ان کے فوراً بعد اگر انسان جاگ جائے تو وہ خواب یاد رہتے ہیں۔ نیند کے آخری (1/3)ایک تہائی  حصے میں خوابوں کے وقفے لمبے ہوتے ہیں ۔ اکثر یاد رہنے والے خواب بیداری سے تقریباً ڈھائی گھنٹے کے اندر اندر نظر آتے ہیں۔ 
خواب کے دوران انسان کا دایاں دماغ زیادہ متحرک ہوتا ہے۔اگر بایاں دماغ بھی متحرک ہوجائے تو خواب یاد رہتے ہیں ،بصورتِ دیگر بھول جاتے ہیں۔ 

خواب دیکھنے کے لیے گہری نیند ضروری ہے اور گہری نیند کے لیے انسان کا وقت پر سونا بھی ضروری ہے۔  ماہرین کے مطابق سورج غروب ہونے کے بعد  جیسے ہی اندھیرا پھیلنا شروع ہوتا ہے ۔ہمارے دماغ کے بائیں حصے کی حرکات و سکنات  غیر محسوس  طریقے  سے بتدریج سست پڑنے لگتیں ہیں  جس کی وجہ سے  ہم تھکاوٹ محسوس کرنے لگتے ہیں ۔ اس کی وجہ پینیل گلینڈ سے روشنی کی عدم موجودگی یا اندھیرے میں ایک ہارمون میلاٹونن کا اخراج ہے  ۔اس ہارمون کا کام  جسم کو پرسکون نیند کی جانب مائل کرناہے۔  




ریم سلیپ کے دوران میلاٹونن ایک سیروٹنن  Serotoninاور ہسٹامنHistamine کے اخراج کو روک دیتا ہے۔ سیروٹنن Serotonin  کیمیائی مادہ  جو ہمارے موڈ ، جذباتی کیفیات ،بھوک کا لگنا اور ہاضمے  پر اثرانداز ہوتا ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس کا ڈپریشن سے بھی گہرا تعلق ہے کیونکہ یہ ہارمون ہمارے جذبات اور موڈ کو توازن میں رکھتا ہے ۔ہسٹامنHistamine بھی کیمیائی مادہ ہے جو جو نیند لانے کے عمل کو روکتا ہے اور بیدار رکھتا ہے ۔ 

یاد رہے میلاٹونن صرف رات کے وقت اندھیر  میں ایکٹیو ہوتا ہے، اور اگر سونے کے وقت کمرے میں تیز مصنوعی روشنی، ٹی وی ، کمپیوٹر یا موبائل  کی اسکرین  کی روشنی موجود ہو تو یہ میلاٹونن ایکٹیو نہیں ہوپاتا  جس کی وجہ سے اسٹریس کے ہارمونز سیروٹنن و ہسٹامن ایکٹیو رہتے ہیں اور نیند مکمل اور پرسکون  نہیں رہتی اور جب نیند پرسکون نہیں رہتی  تو خواب  کا سائیکل بھی پورا نہیں ہوپاتا ۔ 



لہذا جن لوگوں کو خواب نظر نہیں آتے  انہیں چاہیے کہ وہ پرسکون اور مکمل نیند سوئیں، رات کو تیز روشنی، کمپیوٹر، موبائل اور ٹی وی کی نیلی اسکرین  آف رکھیں۔  نیند کے ساتھ ناشتہ اور کھانے کے قدرتی اوقات کی بھی پابندی کریں۔   

ہمارے خواب کا ہماری غذا سےبھی گہرا تعلق ہے، کچھ غذائیں ایسی بھی ہیں  جن کے کھانے سے پیچیدہ اور ڈراؤنے خواب نظر آتے ہیں اور کچھ غذاؤں کی وجہ سے واضع  خواب آسکتے ہیں ۔ 

(جاری ہے)

[  خواب  پر غذا کے اثرا ت، اور  سچے واضح   خواب دِکھانے والی غذا ئیں   ۔  اگلے حصے میں ملاحظہ کیجیے]


اپنے خواب اپنی مرضی کے مطابق دیکھیے 

اپنے پسندیدہ رسالے ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ کے مضامین آن لائن پڑھنے کے لیے بذریعہ ای میل یا بذریعہ فیس بُک سبسکرائب کیجیے ہر ماہ روحانی ڈائجسٹ کے نئے مضامین اپنے موبائل فون یا کمپیوٹر پر پڑھیے….

https://roohanidigest.online

Disqus Comments

مزید ملاحظہ کیجیے